Question asked by someone

سوال : آج لوگ مذاق کے نام سے مذھب کا عورت کا سیاست کا اولیا کا سر عام مزاق اڑا رھے ھیں لیکن ھر کوئی یہ مذاق ھے کہ کر گزر جاتا ھے آپ بتائیں اسلام میں مزاق کا کیا تصور ھے؟

جواب : کلامِ پاک میں سخت وعید ( وارننگ) دی گئی ہے ایسے لوگوں کے بارے میں جو دین کو ہنسی مذاق بنا لیتے ہیں۔ مومنوں کو حکم ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ہنسی مذاق بنا لیا تھا۔ اللہ ، رسولﷺ ، یومِ آخرت ، فرشتوں اور جزا سزا، جنت اور دوزخ کے بارے میں لطیفہ گوئی سخت منع ہے۔ ایسے لوگوں کی محفل میں نہیں بیٹھنا چاہیے جو آپس میں ایسا ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے، یہاں مزاح کی گنجائش ہے ، لیکن طنز، طعنہ اور توہین کی قطعاً گنجائش نہیں۔ اسلام میں مزاح صرف شگفتگی پیدا کرنے کی غرض ہے ، چہرے پر مسکراہٹ لانے کیلئے ہے۔ مزاح دراصل اپنے رفیقوں کی طبیعت میں بشاشت لانے کی نیت سے پیدا کیا جاتا ہے۔ مزاح میں پھکڑپن اور جگت بازی نہیں ہونی چاہیے، صرف لفظوں سے مزاح پیدا کیا جایے۔ الٹی سیدھی حرکتیں کرکے ، جوکروں کی طرح روپ دھار کر ، منہ بگاڑ کر مضحکہ خیز شکلیں بنا کر مزاح پیدا نہیں کرنا چاہیے، یہ شرفِ انسانیت کے منافی باتیں ہیں۔ شریعت میں قہقلہ لگا کر ہسنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ احادیث میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ نہ ہنسا کرو، زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ قرآن کریم میں سورۃ النجم میں غآفل لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے "وانتم تضحکون ولا تبکون"( وہ ہنستے رہتے ہیں اور روتے نہیں)

(Reply by Dr. Azhar Waheed sb.)

#QA #drazharwaheed

Featured Coloumn