Galti, Aitraf aur Aitraf-e-hakeekat!

اپنی غلطی کااعتراف کرنا ٗ باعلم ہونے کی علامت ہے .... اور غلطی کا دفاع کرنا جہالت کی نشانی ہے!!

دوسروں میں خوبیاں تلاش کرنا علم ہے .... خامیاں ڈھونڈھنا ایک کارِجہل ہے۔ دراصل علم کا انکار.... جہالت کا طرّہِ امتیاز ہے۔ غلطی کا اعتراف کرنا....اپنے علم کی صحت کی دلیل ہے ۔غلطی تسلیم کرنے سے انکار کرنا ....ناکس ذہن اور ناقص علم کی علامت ہے ۔ غلطی تسلیم کرنے میں سلامتی ہے .... ایمان کی .... علم کی .... اور آئندہ کیلئے عمل کی!

غلطی کا اعتراف کرنا ٗعجز کو ظاہر کرتا ہے .... اور عجز سلامتی ہے ....ایمان کی بھی .... عقل کی بھی !! درحقیقت خود کو غلطی پر پانا .... ایک علمی مکاشفہ ہے.... اور یہ مکاشفات ٗ عالم کے علم کی زینت ہوتے ہیں !!

اپنی غلطی ماننے سے انکار کرنا جہالت کے سبب ہوتا ہے یا تکبرکے سبب....اور.... جہالت اور تکبر دونوں علم کے غیر ہیں ۔ جو غلطی کو غلطی نہیں مانتا .... وہ غلطی پر غلطی کا مرتکب ہوتا ہے.... یعنی اس کا جہل.... جہلِ مرکب ہے۔

صرف ایک پُراعتماد شخصیت کا حامل ہی اپنی غلطی اور دوسروں کی ملامت کا بوجھ اٹھا سکتا ہے ۔ کمزور دل اور کم ظرف ملامت سے خوف زدہ ہوجاتا ہے .... وہ اپنی غلطی کو غلطی کہنے سے بدک جاتا ہے، اورجس میدان میں اس کی غلطی پکڑے جانے کا احتمال ہو ٗ وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔

غلطی کوخود نہ پکڑا جائے.... تو اسے دوسرے پکڑتے ہیں .... اور جب دوسرے پکڑتے ہیں تو محاکمہ بھی کرتے ہیں اور محاسبہ بھی!! اپنی غلطی خود پکڑ لی جائے تو انسان پکڑ سے بچ جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف .... معافی کا دیباچہ ہے۔ اپنی غلطی کا معترف .... تعریف کے قابل ہوتا ہے !!

غلطی کا اعتراف کرنے والا....مخلوق خدا میں اپنے متواضع ہونے کی دلیل مہیا کرتا ہے .... اور غلطی پر اکڑنے والا .... اپنے تکبر کا ثبوت دیتا ہے ۔غلطی پر اکڑنا.... غلطی پرغلطی کرنا ہے.... اور ایسی غلطی وہی کر سکتا ہے جو پہلے مغرور ہونے کی غلطی کا مرتکب ہو چکا ہو۔

اپنی غلطی اور دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف زندگی کو خوبصورت بنانے کا عمل ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہمیں ہماری ہی غلطی فایدہ دیتی ہے ۔ ہماری خوبیوں سے تو دوسرے لوگ فایدہ اٹھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی حصولِ علم کے باب میں ہماری غلطی ہمارے کام آتی ہے اور ہماری علمی خوبیاں دوسروں کے کام آتی ہیں۔ جس طرح ہماری شہرت ہمیں فایدہ نہیں دیتی ، ہماری شہرت دوسروں کا منظر ہے۔ ہماری غلطی ہمیں خود احتسابی کی طرف لے جاتی ہے، اس لئے فکروعمل کی دنیا کے مسافر کیلئے اس کی غلطی ایک اثاثہ ثابت ہوتی ہیں۔ کم علمی کا اعتراف ہمیں مزید علم کا اہل کرتا ہے۔

معلوم نہیںٗ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے سے گھبراتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے گرد ایک مصنوعی شناخت اور خود ساختہ مرتبے کا خول چڑھا رکھا ہے۔ ہماری غلطی ہمیں اس قدر مضطرب نہیں کرتی جتنا یہ احساس ہمارے لیے سوہانِ روح بنا رہتا ہے کہ ہماری غلطی کا ابلاغ کہیں لوگوں تک نہ ہوجائے۔ ہم سوچتے ہیں کہ لوگ ہماری غلطی پکڑیں گے تو معاشرے میں ہمارے اس ”مقام “کا کیا بنے گا جو بڑی محنت سے ہم نے اپنی اور دوسروں کی نظر میں قائم کر رکھا ہے۔ گویا ہمارے لیے ہماری غلطی اہم نہیں بلکہ غلطی کا ڈھول بجنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے ٗ جو اپنی اصلاح دوسروں کیلئے کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کا سفر باطن میں نہیں ‘ بلکہ ظاہر میں ہورہا ہے۔

جب تک ہم اپنی خود ساختہ دنیا میں زندگی بسر کرتے رہتے ہیں ‘ ہم ایک نامعلوم حبس کا شکار رہتے ہیں۔ کیسا ظلم ہے‘ ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ دوسروں کیلئے.... ملازمت کرتے ہیں ‘ اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے کیلئے ....لیکن معیارِ زندگی بلند کرنے کیلئے جو معیار ہمارے سامنے ہوتا ہے ٗوہ دوسروں کا تجویز کردہ ہوتا ہے۔ گویا ہم لوگوں کیلئے زندگی بسر کررہے ہیں ....ان کی خدمت کیلئے نہیں ‘ بلکہ ان میں مقام ومرتبہ حاصل کرنے کیلئے !!

"لوگ کیا کہیں گے" ہماری زندگی کا محرک ہے۔ فکر عمل کی اساس ہوا کرتا ہے ، اور ہمارے فکرکی اساس بیرونی دنیا میں قائم ہے۔ ہم اپنی دنیا کب آباد کریں گے؟؟ ہماری فکری تحریک باطنی نہیں ‘ ظاہری ہے۔ ظاہر سے برآمد شدہ فکر ہمارے باطن کی دنیا کو کیسے آباد کرے گا؟

ہم غریب ہیں ٗ لیکن امیر مشہور ہونا چاہتے ہیں۔ ہم گناہگار ہیں لیکن پرہیزگار معروف ہونا چاہتے ہیں۔ ہم طالب علم بننے کیلئے بھی ابھی موزوں نہیں ٗ لیکن خود کو پوری قوم کیلئے موزوں ترین استاد تصور کرتے ہیں۔

غلطی کا اعتراف ایک اعترافِ حقیقت ہے۔ اپنی غلطی کااعتراف کرنے سے انکار کرنا دراصل حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ ہمارے استاد، مربی اور مرشد ہمیں مزید سبق دینے سے پہلے پرانے سبق کی اغلاط درست کروانا ضروری سمجھتے ہیں۔ پرانی غلطیوں سمیت مزید آگے بڑھنے اور جاننے کی تمنا ایک شوقِ آوارگی کے سوا کچھ نہیں۔ گاڑی سے آوازیں نکل رہی ہوں تو اسے چیک کروائے اور درست کروائے بغیر موٹر وے پرچڑھ جانا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے برابر ہے۔

فقرکے شعبے میں بابِ اوّل کا نام توبہ ہے.... اور توبہ اپنی غلطی کا اعتراف ہی تو ہوتا ہے ۔ اعتراف مجرم بھی کرتے ہیں اور محرم بھی! مجرموں سے اعتراف کروایا جاتا ہے ، محرم اعتراف کرنے کیلئے خود آتے ہیں۔ مجرم محروم ہوتے ہیں ، محرم مرحوم!! محرمانِ محبت اعتراف کے بعد خود کو درست کرنے کی نیت بھی کرتے ہیں.... اس لیے مزید قربت کے اہل ٹھہرتے ہیں۔

کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اگر ہمیں کسی شعبے کے بارے میں علم نہ ہو تو ہم کوئی مبہم بات کرنے کی بجائے صاف صاف اعتراف کر لیں کہ ہم اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ لیکن ہمارے ہاں ٗ ہر شخص ہر شعبے کے متعلق ایک کنسلٹینٹ کی طرح ماہرانہ رائے دینے پر مصر ہے۔ فیملی فزیشن کی کرسی پر بیٹھا صبح سے شام تک مریضوں کی عامیانہ باتیں ماہرانہ انداز میں سنتا رہتا ہوں۔ مرض ہو ٗ یا مرض کی تشخیص ....ادویات ہوں یا ادویات کے سائیڈ ایفیکٹ کی کوئی بات .... ہر شخص سنی سنائی باتوں کو بڑے وثوق سے بیان کرتا ہے۔ اینٹی بائیٹک کے سپیلنگ بھی نہیں آتے ٗ تو کوئی بات نہیں ٗ لیکن انیٹنی بائیوٹک ادویات کے متعلق ماہرانہ رائے دینا ہر شخص اپنا فرضِ منصبی تصور کرتا ہے۔ مریض کی رائے معالج کی رائے کے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔ مریض جب معالج کو رائے دیتا ہے تو خود کو ایک بہتر علاج سے قدرے دُور کر لیتا ہے۔ طالب علم استاد کو کیسے پڑھا سکتا ہے۔۔۔۔۔ استاد کواُس کے استاد پڑھا چکے ہیں۔ کم علم شخص جب اپنی رائے پر مُصر ہوجاتا ہے تو خود کو ایک بہتر منظر دیکھنے سے محروم کرلیتا ہے۔ اپنی غلطیوں کا عذر اور توجیہات تلاش کرنے والا ّ عذرِ گناہ ، بدتر از گناہ ٗ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اپنی خامیوں پر فخر اور دوسروں کی خوبیوں پر حسد ایک متعصب ذہن کا عکاس ہے۔ متعصب شخص معتوب ہوتا ہے ....اور۔۔۔۔ معتوب اور مغضوب شخص پر علم کی راہ مسدود ہوجاتی ہے ....کیونکہ از روئے حدیث علم تو جنت کے راستوں کا نشان ہے۔

علم کی جستجوہو‘ یا اپنے حال اور احوال کو بہتر بنانے کی تمنا .... اس تمنا کو ساحلِ مراد تک پہنچانے کا زینہ اور سفینہ ٗ اپنی غلطیوں کا اعتراف اور ادراک ہے!!

#drazharwaheed #wasifaliwasif #columns #aksekhayal #essays #غلطی #اعتراف #حقیقت #فقر #توبہ #قرب #محرم

Featured Coloumn