top of page

تشکیک زدہ سوال

تشکیک زدہ سوال کبھی شافی اور کافی جواب تک نہیں پہنچ پاتا۔ شک کی کوکھ سے برآمد ہونے والا سوالٗ جواب کی طلب نہیں رکھتا بلکہ وہ اعتراض کی سمت چلتا ہوا دائرہِ معانی سے دُور نکل جاتا ہے۔ بدگمانی کسی وضاحت سے دُور نہیں ہوتی۔ وضاحت ایک خارجی عنصر ہے جبکہ بدگمانی ایک باطنی مرض ہے۔ باطنی مرض کیلیے علاج بھی باطن سے برآمد ہوتا ہے لیکن یہ اہلِ باطن کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ مائل بہ کرم ہوں۔۔۔۔۔ ظاہر کا باطن پر کوئی زور نہیں!! نور سے دوری اختیار کرنے والا ظلمت میں دبوچ لیا جاتا ہے۔ خیر اور اہل خیر سے اعراض کرنے والا بالآخر شر کے نرغے میں آجاتا ہے۔ جسے شر کی طرف ہانک دیا جاتا ہےٗ وہ خود کو خیرِ کل سمجھتا ہے اور اپنی تفہیم سے مختلف جواب کو قابلِ گرفت

Featured Coloumn
Tag Cloud
No tags yet.
bottom of page