top of page

وجود اور خیال

خیال کے بغیر وجود ایک مٹی کا ڈھیر ہے۔۔۔۔۔ اور وجود کی گواہی کے بغیر خیال محض ایک فلسفہ و علم الکلام ہے۔ وجود کی گواہی خیال اور عمل کی ہمراہی سے میسر آتی ہے۔ اگر خیال وجود کا حصہ نہیں بنتا تو قصہ ماضی بن جاتا ہے۔ وجود حال ہے اور خیال کا خزانہ ماضی سے تعلق رکھتا ہے۔ ماضی کو حال سے ملانے والی چیز وجود کی گواہی ہے۔ جب خیال کسی پر مہربان ہوتا ہے تو اسے صاحبِ خیال بنا دیتا ہے۔ صاحبِ خیال وہ صاحب ہوتا ہے جس کے وجود سے خیال کی لَو لپک لپک کر باہر آرہی ہو۔۔۔۔۔۔۔ جس کا حال اس کے قال پر غالب ہو۔ جس کی خاموشی اس کی گفتار سے زیادہ با رعب ہو چکی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس کی صحبت اپنے مصاحبین کے خیال کو بدلنے کی قدرت رکھتی ہو

Featured Coloumn
Tag Cloud
No tags yet.
bottom of page